Skip to content
Duration3:23

ابھی کچھ شام باقی ہے

باقی شام

غزل

About

یہ ایک روایتی غزل ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے نپے تلے تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے میں آواز کو ابھارنے والا مکس استعمال کیا گیا ہے تاکہ شاعری کی گہرائی اور جذبات سامعین تک پوری طرح پہنچ سکیں۔

Lyrics

intro

ابھی کچھ دیر باقی ہے، ابھی کچھ شام باقی ہےمرے لب پر کسی کے نام کا پیغام باقی ہے

verse

وہ جو آئے تھے بن کے خواب، آنکھوں میں اتر آئےمگر اب خواب کے گھر میں فقط کہرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے

refrain

محبت کی یہ وحشت ہے، بدن میں آگ لگتی ہےمگر دل کے کسی گوشے میں اب بھی آرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے

instrumental-break
verse

عجب دستور ہے دل کا، اسے سمجھا نہیں پایاکہ جس نے کاٹ دی عمریں، وہی اب دام باقی ہےکبھی جو پھول تھے ہاتھوں میں، اب وہ راکھ بن کر بسہواؤں کے سفر میں ایک مٹھی کا نام باقی ہے

refrain

محبت کی یہ وحشت ہے، بدن میں آگ لگتی ہےمگر دل کے کسی گوشے میں اب بھی آرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے

outro

ابھی کچھ دیر باقی ہے، ابھی کچھ شام باقی ہےمرے لب پر کسی کے نام کا پیغام باقی ہےبس اک نام باقی ہے، فقط اک نام باقی ہے

ابھی کچھ شام باقی ہے

باقی شام

Preview

ابھی کچھ شام باقی ہے by باقی شام | EchoLoRA: Generate a Song with AI