ابھی کچھ شام باقی ہے
باقی شام
غزل
About
یہ ایک روایتی غزل ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے نپے تلے تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے میں آواز کو ابھارنے والا مکس استعمال کیا گیا ہے تاکہ شاعری کی گہرائی اور جذبات سامعین تک پوری طرح پہنچ سکیں۔
Lyrics
ابھی کچھ دیر باقی ہے، ابھی کچھ شام باقی ہےمرے لب پر کسی کے نام کا پیغام باقی ہے
وہ جو آئے تھے بن کے خواب، آنکھوں میں اتر آئےمگر اب خواب کے گھر میں فقط کہرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے
محبت کی یہ وحشت ہے، بدن میں آگ لگتی ہےمگر دل کے کسی گوشے میں اب بھی آرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے
عجب دستور ہے دل کا، اسے سمجھا نہیں پایاکہ جس نے کاٹ دی عمریں، وہی اب دام باقی ہےکبھی جو پھول تھے ہاتھوں میں، اب وہ راکھ بن کر بسہواؤں کے سفر میں ایک مٹھی کا نام باقی ہے
محبت کی یہ وحشت ہے، بدن میں آگ لگتی ہےمگر دل کے کسی گوشے میں اب بھی آرام باقی ہےتمہاری یاد کے آنگن میں اب بھی ٹھہر جاتا ہوںاگرچہ زندگی کا اب وہی اک نام باقی ہے
ابھی کچھ دیر باقی ہے، ابھی کچھ شام باقی ہےمرے لب پر کسی کے نام کا پیغام باقی ہےبس اک نام باقی ہے، فقط اک نام باقی ہے
ابھی کچھ شام باقی ہے
باقی شام
Preview