Skip to content
♪
Duration4:34

فنا کا سفر

سلسلہِ عشق

صوفیانہ قوالی

About

یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مستقل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کرتا ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش صوتی انداز (ecstatic-vocal-delivery) کے ذریعے خالقِ کائنات سے وصال کی تڑپ کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق میں خود کو کھو دیا میں کیا تھا اور کیا ہو گیا

verse

لبوں پہ نام ہے تیرا ہی جاری میری سانسیں ہیں تیری ہی بھکاری میں ذرہ ہوں، تو ہے سمندر کا پھیلاؤمیری ہستی تیری دہلیز پہ ہے جھکی تجھے پانے کی ضد میں، میں خود سے لڑا مگر اب تو بس تیرا ہی سایہ ہے ساتھ

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رے، عشقِ خدا لا الہ، لا الہ، تیرا ہی جلوہ مدد کر، اے میرے مالک، مدد کر

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہر میری رگ رگ میں بسا ہے تیرا ہی ایک نام میں مٹی کا پتلا، تو ہے روح کا آرام تیری الفت میں ڈوب کر، میں ہوا ہوں بے نام

verse

یہ دنیا تو بس ایک سراب ہے حقیقت تو تیرا ہی جواب ہے میں بھٹکا ہوا مسافر، تو ہے منزل کا نشان میری آنکھوں میں تیرا ہی عکس ہے عیاں میں خالی تھا، تو نے بھر دیا نور سے اب فاصلہ کوئی نہیں رہا، تیرے اور میرے درمیان

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہر میری رگ رگ میں بسا ہے تیرا ہی ایک نام میں مٹی کا پتلا، تو ہے روح کا آرام تیری الفت میں ڈوب کر، میں ہوا ہوں بے نام

climax

میں فنا ہو گیا، تو بقا ہو گیا میں جدا ہو گیا، تو عطا ہو گیا آگ لگی ہے سینے میں، تیری دید کی پیاس تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، میرے پاس

outro

خاموش ہوں میں اب، سب کچھ کہہ دیا تیرے عشق میں میں، خود کو مٹا دیا بس تو ہی، بس تو ہی، تو ہی رہا صرف تو ہی رہا، فقط تو ہی رہا

فنا کا سفر

سلسلہِ عشق

Preview