فنا کا سفر
سلسلہِ عشق
صوفیانہ قوالی
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کا مستقل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تال کا امتزاج روح کو سرشار کرتا ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش صوتی انداز (ecstatic-vocal-delivery) کے ذریعے خالقِ کائنات سے وصال کی تڑپ کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے عشق میں خود کو کھو دیا میں کیا تھا اور کیا ہو گیا
لبوں پہ نام ہے تیرا ہی جاری میری سانسیں ہیں تیری ہی بھکاری میں ذرہ ہوں، تو ہے سمندر کا پھیلاؤمیری ہستی تیری دہلیز پہ ہے جھکی تجھے پانے کی ضد میں، میں خود سے لڑا مگر اب تو بس تیرا ہی سایہ ہے ساتھ
ہائے رے، ہائے رے، عشقِ خدا لا الہ، لا الہ، تیرا ہی جلوہ مدد کر، اے میرے مالک، مدد کر
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہر میری رگ رگ میں بسا ہے تیرا ہی ایک نام میں مٹی کا پتلا، تو ہے روح کا آرام تیری الفت میں ڈوب کر، میں ہوا ہوں بے نام
یہ دنیا تو بس ایک سراب ہے حقیقت تو تیرا ہی جواب ہے میں بھٹکا ہوا مسافر، تو ہے منزل کا نشان میری آنکھوں میں تیرا ہی عکس ہے عیاں میں خالی تھا، تو نے بھر دیا نور سے اب فاصلہ کوئی نہیں رہا، تیرے اور میرے درمیان
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہر میری رگ رگ میں بسا ہے تیرا ہی ایک نام میں مٹی کا پتلا، تو ہے روح کا آرام تیری الفت میں ڈوب کر، میں ہوا ہوں بے نام
میں فنا ہو گیا، تو بقا ہو گیا میں جدا ہو گیا، تو عطا ہو گیا آگ لگی ہے سینے میں، تیری دید کی پیاس تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، میرے پاس
خاموش ہوں میں اب، سب کچھ کہہ دیا تیرے عشق میں میں، خود کو مٹا دیا بس تو ہی، بس تو ہی، تو ہی رہا صرف تو ہی رہا، فقط تو ہی رہا
فنا کا سفر
سلسلہِ عشق
Preview