Skip to content
Duration3:34

شہرِ بے نام

دھول آگ

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی طبلہ کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے، جس میں گہری 808 بیس لائنز اور شہری زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کی پروڈکشن میں ماحول کو بھاری اور پر اثر بنانے کے لیے سنتھیسائزر کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ کراچی کی گلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

Lyrics

intro

روشنیوں کے اس شہر میں، اندھیرے گہرے ہیںہماری آنکھوں میں خواب، مگر پاؤں میں بیڑیاں ہیںسڑکوں کی دھول، اور دل میں اک آگ پلتی ہےیہ کہانی ہے اس کی، جو گر کر بھی سنبھلتی ہے

verse

سیمنٹ کے جنگل میں، ہم نے جینا سیکھا ہےخالی جیبوں کے ساتھ، اونچا جینا سیکھا ہےیہاں ہر موڑ پر اک امتحان کھڑا ہےسچ بولنے والا، یہاں کب سے اڑا ہے؟گلیوں کے سناٹے میں، میری آواز گونجتی ہےحقیقت کی تلخی، رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہےکون سنتا ہے یہاں، دھڑکتے ہوئے ان سینوں کو؟ہم نے توڑ دیا ہے، اپنے ہی ہاتھوں سے ان مکینوں کو

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، اور ہم اس کی پہچان ہیںگرتے ہوئے ستاروں کا، اک نیا آسمان ہیںآندھیوں سے لڑنا، ہم نے بچپن سے جانا ہےاپنے ہی لہو سے، اپنی تقدیر کو لکھ جانا ہےیہ شہر ہمارا ہے، ہم اس کی پہچان ہیں

verse

کاغذ کے ٹکڑوں پر، بکتی ہے یہاں عزتسیاہ پوش چہروں میں، چھپی ہے اک لعنتہم لڑیں گے تب تک، جب تک سانس باقی ہےہماری خاموشی، طوفان کی پیشگی باقی ہےتم نے سوچا تھا، ہم مٹ جائیں گے خاک میں؟مگر ہم نکلے ہیں، ہر ایک نئی راکھ میںہماری زبان میں، اب وہ تیزی نہیں رہیجو پہلے کبھی، کسی اور کی غلامی میں بہی

bridge

وقت کا پہیہ گھومے گا، تو تم بھی پہچانو گےجنہیں کمزور سمجھا تھا، انہیں سر پر بٹھاؤ گےیہ مٹی گواہ ہے، ہمارے ہر ایک قدم کییہاں لکھ دی ہے ہم نے، کہانی اپنے کرم کی

chorus

یہ شہر ہمارا ہے، اور ہم اس کی پہچان ہیںگرتے ہوئے ستاروں کا، اک نیا آسمان ہیںآندھیوں سے لڑنا، ہم نے بچپن سے جانا ہےاپنے ہی لہو سے، اپنی تقدیر کو لکھ جانا ہےیہ شہر ہمارا ہے، ہم اس کی پہچان ہیں

outro

دھوپ ڈھل رہی ہے، سائے لمبے ہو رہے ہیںہم جاگ رہے ہیں، اور سب سو رہے ہیںابھی تو شروعات ہے، ابھی تو سفر باقی ہےہماری جیت کا، ابھی منظر باقی ہےیہ شہر ہمارا ہے...یہاں سے ہم اب، کہیں نہیں جانے والے۔

شہرِ بے نام

دھول آگ

Preview