محبت کا قصہ
شاہد بے قرار
غزل
About
یہ غزل ایک روایتی اور جذباتی پیشکش ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کی بدولت شاعری کے ہر لفظ اور لہجے کی نزاکت کو گہرائی سے محسوس کیا جا سکتا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانیاں بکھر جائیںاگر تو دیکھ لے پلٹ کر تو سب مشکلیں سنور جائیںمیں اپنی ذات کے صحرا میں بھٹکتا پھر رہا ہوں ابتیری نظریں جو مل جائیں تو سارا راستہ نکھر جائیں
محبت کا یہ قصہ اب کہاں تک ساتھ لے جاؤںکہ تیرے نام پہ ہی میرے سب جذبے ٹھہر جائیںمحبت کا یہ قصہ اب کہاں تک ساتھ لے جاؤں
کبھی تو خواب بن کر آ میری تنہائیوں میں تویہ کچی نیند کے منظر تیرے چہرے سے ہی بھر جائیںمیں ڈھونڈوں خود کو جب بھی آئینے کے عکس میں اکثرتیرے ہی نقشِ پا مجھ میں کہیں جا کر اتر جائیں
محبت کا یہ قصہ اب کہاں تک ساتھ لے جاؤںکہ تیرے نام پہ ہی میرے سب جذبے ٹھہر جائیںمحبت کا یہ قصہ اب کہاں تک ساتھ لے جاؤں
بکھر جانے کا موسم ہے، ٹھہر جانے کی خواہش ہےتیرے بن اب تو یہ سانسیں بھی خاموشی سے گزر جائیںخاموشی سے گزر جائیںبس تیرے نام پر گزر جائیں
محبت کا قصہ
شاہد بے قرار
Preview