سلسلہ بے رنگ
شیر علی خان
غزل
About
یہ غزل ایک جذباتی اور صوتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے پیٹرن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا مکس ووکل سینٹرڈ ہے، جو شاعرانہ الفاظ کی گہرائی اور سوز کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔
Lyrics
تمہاری یاد کے موسم نے کیسی دھوپ دی ہم کوگئے وقتوں کے ساۓ میں ملی ہے چھاؤں اب ہم کوتمہاری گفتگو کی نرمیاں اب بھی بدن میں ہیںکبھی تنہا نہ چھوڑا اس طرح کی بو نے ہم کو
تیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےمحبت کا یہ رستہ اب بہت ہی تنگ لگتا ہےتیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہے
محبت کی عدالت میں گواہی کون دے گا ابسیاہی سے لکھی تحریر پر دستک کون دے گا ابپرانے خط کے لفظوں میں چھپی ہے اک کہانی سیجو دل کی دھڑکنوں میں ہے اسے آواز کون دے گا اب
تیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےمحبت کا یہ رستہ اب بہت ہی تنگ لگتا ہےتیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہے
کبھی تو خواب کی دہلیز پر تم بھی کھڑے ہو گےکسی انجان رستے پر اکیلے ہی چلے ہو گےہماری روح کی پیاس اب سمندر بن کے بہتی ہےذرا مڑ کر جو دیکھو گے تو خود کو ہی ملے ہو گے
ہوا کے ساتھ چلنا تو فقط اک خوش گمانی ہےتمہارے ہجر کی راتیں بہت ہی لاثانی ہیںاگر ملنا نہیں ممکن تو یہ دوری ہی رہنے دویہ قصہ مختصر ہے مگر یادیں ہی کہانی ہیں
تیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےمحبت کا یہ رستہ اب بہت ہی تنگ لگتا ہےتیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہے
نگاہوں کی زبانیں اب بہت ہی کم سمجھتی ہیںجو ہم نے بویا تھا وہ اب بھی آنکھیں ہی سمجھتی ہیںکتابِ زیست کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیتے ہیںتمہارے نام کے لمحے اب بھی ہم ہی سمجھتی ہیں
تیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےمحبت کا یہ رستہ اب بہت ہی تنگ لگتا ہےتیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہے
تیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےتیرے بن زندگی کا سلسلہ بے رنگ لگتا ہےبس ایک رنگ ہے جو اب بھی دل میں ٹھہرا ہےتیرے جانے کا منظر ہی اب سب سے بڑا سہرا ہے
سلسلہ بے رنگ
شیر علی خان
Preview