مقامِ فنا
استاد فیضانِ قلندر
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری دھن اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو سامعین کو ایک وجدانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمولا، میرے دل کے بند کھول دےتیری طلب میں، تیری تڑپ میںخود کو مٹانے آیا ہوں
میں تو اک ذرہ ہوں، تیری کائنات کاتیری ہی مرضی ہے، میری ہر بات کاراستے بھٹکا تھا، تجھ سے ہی پایا ہےسایہ تیرا ہی، میری ذات کادل میں جو جلتی ہے، یہ کیسی آگ ہےتیرے ہی نام کا، سارا چراغ ہے
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی یاد میں، ہوں میں حاضرتجھ سے ہی ٹوٹے، تجھ سے ہی جڑےتیری ہی راہ میں، ہم تو کھڑےیا رب! میری پکار سن لےمجھ کو اپنے حصار میں لے
مستانہ حال ہے، دیوانہ دل ہےتیرے عشق کی مستی، شامل ہےنہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہتیرے قرب کا، یہ کیسا مرحلہہوئی ہے تجلی، دل کے مکاں میںکھویا ہوں میں، تیری ہی داستاں میں
تیرے نام کی گونج، فضاؤں میں ہےمیرا سب کچھ، تیری رضاؤں میں ہےمٹ گئی ہستی، باقی تو ہی تومیرے ہر لفظ میں، تیری ہی خوآیا ہوں در پہ، سر کو جھکائےتیری رحمت، اب تو برسائے
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیرا سکون، تو ہی تو ہےتیرے قرب میں، فنا ہوامیں کیا تھا، اب کیا ہوابس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...
مقامِ فنا
استاد فیضانِ قلندر
Preview