Skip to content
Duration3:29

مقامِ فنا

استاد فیضانِ قلندر

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری دھن اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو سامعین کو ایک وجدانی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ لےمولا، میرے دل کے بند کھول دےتیری طلب میں، تیری تڑپ میںخود کو مٹانے آیا ہوں

verse

میں تو اک ذرہ ہوں، تیری کائنات کاتیری ہی مرضی ہے، میری ہر بات کاراستے بھٹکا تھا، تجھ سے ہی پایا ہےسایہ تیرا ہی، میری ذات کادل میں جو جلتی ہے، یہ کیسی آگ ہےتیرے ہی نام کا، سارا چراغ ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ہی یاد میں، ہوں میں حاضرتجھ سے ہی ٹوٹے، تجھ سے ہی جڑےتیری ہی راہ میں، ہم تو کھڑےیا رب! میری پکار سن لےمجھ کو اپنے حصار میں لے

improvisation

مستانہ حال ہے، دیوانہ دل ہےتیرے عشق کی مستی، شامل ہےنہ کوئی دوری، نہ کوئی فاصلہتیرے قرب کا، یہ کیسا مرحلہہوئی ہے تجلی، دل کے مکاں میںکھویا ہوں میں، تیری ہی داستاں میں

crescendo

تیرے نام کی گونج، فضاؤں میں ہےمیرا سب کچھ، تیری رضاؤں میں ہےمٹ گئی ہستی، باقی تو ہی تومیرے ہر لفظ میں، تیری ہی خوآیا ہوں در پہ، سر کو جھکائےتیری رحمت، اب تو برسائے

outro

تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیرا سکون، تو ہی تو ہےتیرے قرب میں، فنا ہوامیں کیا تھا، اب کیا ہوابس تو ہی تو ہے...بس تو ہی تو ہے...

مقامِ فنا

استاد فیضانِ قلندر

Preview

مقامِ فنا by استاد فیضانِ قلندر | EchoLoRA: Generate a Song with AI