مستیِ فنا
استاد روح اللہ قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلے کی تیز تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو روحانی وجد اور صوفیانہ کیفیت کو اجاگر کرتی ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہیں، ہم ہوش گنوا بیٹھےاس راہِ طلب میں ہم، خود کو ہی مٹا بیٹھے
تیرے عشق کی حد کوئی پا نہ سکاجو تجھ سے ملے، وہ کہیں آ نہ سکامیں خاک کا ذرہ ہوں، تو نورِ ازل ہےتیرے در کے سوا کوئی ٹھکانہ نہ سکا
مجھ میں تو ہی تو ہے، میں تو کہیں بھی نہیںتیری یاد کے بن، کوئی پل بھی نہیںاے صاحبِ کشف، میری بگڑی بنا دےتیرے در کے سوا کوئی سہارا نہیں
یہ بزمِ عرفان ہے، یہ ذکرِ یار ہےیہ دلِ بے چین، بس تیرا ہی طلبگار ہےتیرے جلووں کی رم جھم ہے آنکھوں میں میریتیرا ہی نام اب، میرا پروردگار ہے
ہو... حق، حق، حق...میرے دل میں تو ہے، میری رگ رگ میں تو ہےمیں تجھ میں گم ہوں، اب مجھے کوئی ہوش نہیںسب کچھ تجھ پہ وار دیا، سب کچھ تجھ پہ ہار دیااب تو ہی تو ہے، اب تو ہی تو ہے
سب کچھ مٹا دیا، خود کو بھی بھلا دیاتیری محبت نے، مجھے خاک بنا دیاپھر وہی نور ہے، پھر وہی شور ہےتیرے عشق نے مجھے، دیوانہ بنا دیامستی میں ڈوبے، ہم ہوش گنوا بیٹھے!
تیرے در پہ سر ہے، اب کہاں جائیں ہمتیرے عشق میں جیے، اب کہاں جائیں ہمتجھ میں ہی فنا، تجھ میں ہی بقابس تیری ہی رضا، بس تیری ہی رضا...حق... حق... حق...
مستیِ فنا
استاد روح اللہ قادری
Preview