سسکتی یادیں
دردمند خان
غزل
About
ایک جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے ساتھ آواز کو مرکزیت دی گئی ہے۔ یہ پروڈکشن ایک پرسکون اسٹوڈیو ماحول میں ریکارڈ کی گئی ہے تاکہ شاعری کی گہرائی اور گلوکار کے درد کو مکمل طور پر محسوس کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ دل اب بھی دھڑکتا ہےتیری یادوں کا سورج ہے جو ہر پل ہی چمکتا ہےمیں ڈھونڈوں خود کو تیری بے رخی کی ان گلیوں میںیہ کیسا درد ہے جو میرے اندر ہی سلگتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیری تصویر دل کے آئینے میں اب بھی مہکتا ہےمحبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتی
کبھی تو لوٹ کر آؤ کہ شامیں بھی ادھوری ہیںتمہارے بن یہ تنہائی کا عالم بھی کھٹکتا ہےمیں لکھتا ہوں ترا نام ہر اک ورق کے گوشے پرمگر کاغذ پہ میرا نام بھی اب تو جھجھکتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیری تصویر دل کے آئینے میں اب بھی مہکتا ہےمحبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتی
بس اک تم ہو جو سوچوں میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہویہ رشتہ اب تو بس یادوں کے سہارے ہی دھڑکتا ہےمحبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتی
سسکتی یادیں
دردمند خان
Preview