مستِ قلندرِ عشق
درباری درویش
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گیت کے دوران کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی گونج ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہے جو سامعین کو روحانی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہے میری پہچانمیں تو مٹی کا پتلا، تو ہی میری جانتیرے عشق کی مستی میں، میں خود کو بھول بیٹھا ہوںتیری دہلیز پہ سر رکھ کر، میں سب کچھ بھول بیٹھا ہوں
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے سنگمتیری طلب میں جلتا ہوں، جیسے جلتا ہو کوئی موسممیری سانسوں کی ڈوری ہے، تیرے ہی ہاتھ کے اندرمیں بھٹکتا پھر رہا تھا، اب پایا ہے اک ٹھکانہ اندرکوئی پوچھے جو مجھ سے، تو بتاؤں کیا حالِ دلبس ایک تو ہی ہے، جو بنتا ہے میرے جینے کا حاصل
مست ہوا، میں مست ہوا، تیرے رنگ میں رنگ کرمیں جی اٹھا، میں جی اٹھا، تجھے دل میں بسا کرمست ہوا، میں مست ہوا، تیرے رنگ میں رنگ کرمیں جی اٹھا، میں جی اٹھا، تجھے دل میں بسا کر
کبھی ظلمت کی راتوں میں، تیری یاد کا چراغ جلاکبھی تنہائی کی راہوں میں، تیرا نام ہی ہے ملایہ دنیا تو ہے فانی، سب کو جانا ہے اک روزپر تیری محبت کا، نہیں کوئی حد، نہیں کوئی سوزمیں طالب ہوں تیرا، تو ہے میرا مقصودِ حیاتتیرے سوا کچھ بھی نہیں، میری ہر صبح، میری ہر رات
ہائے رے عشق! تیرا یہ کیسا جادو ہےجس نے بھی پایا، وہ بس تجھ میں ہی کھویا ہےنہ کوئی فاصلہ، نہ کوئی حجاب باقی ہےاب تو بس میرا یار، میرے دل کے قریب باقی ہےتو ہی ہے، تو ہی ہے، بس تو ہی تو ہےمیری ہر دھڑکن میں، بس تیرا ہی تو ہے
تیری رحمتوں کے سائے میں، میں جھومتا رہوںتیرے در کے گرد میں، یونہی گھومتا رہوںمیری روح کی پیاس، اب تو بجھا دے اے میرے ربتیرے عشق کا جام، مجھے بھی پلا دے اے میرے ربمیں مٹ گیا، میں مٹ گیا، تجھ میں سما کرمیں جی اٹھا، میں جی اٹھا، تجھے پا کر!
مست ہوا، میں مست ہوا، تیرے رنگ میں رنگ کرمیں جی اٹھا، میں جی اٹھا، تجھے دل میں بسا کرمست ہوا، میں مست ہوا، تیرے رنگ میں رنگ کرمیں جی اٹھا، میں جی اٹھا، تجھے دل میں بسا کر
بس تو ہی ہے، تو ہی ہےمیری روح کا سکون، بس تو ہی ہےتیرے در پہ آ کے، میں نے سب پا لیاتیرے عشق میں، میں نے خود کو مٹا دیامٹا دیا... مٹا دیا...سب کچھ مٹا دیا...تو ہی ہے... بس تو ہی ہے...
مستِ قلندرِ عشق
درباری درویش
Preview