مستِ قلندر کی پکار
روحانی طبلہ نواز اور سنگت
Qawwali
About
یہ قوالی ایک روایتی روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں اجتماعی تالیوں اور سوال و جواب پر مبنی آوازوں کے ذریعے ایک جذباتی اور وجدانی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہوئے، کیف و سرور کی باتدل میں چھپے ہوئے اس دردِ حضور کی باتآنکھوں میں نمی، سانسوں میں تیرا ہی ناملبوں پہ مچلتی ہوئی، اس عشقِ غیور کی بات
میں تو بس ایک ذرہ ہوں، تیری راہ کا خاکسارتیرے در کا گدا ہوں، تو ہی میرا پروردگارتیری تجلیوں سے روشن ہے میرا ہر ایک لمحہتیرے سوا کہاں ہے مجھے، کوئی بھی انتظار
محبوبِ ربِ کائنات، تیری رحمت کا سایہ ہودل کی بستی میں بس، تیرا ہی نقارہ بجتا ہومیں فنا ہو جاؤں تیری چاہت کی آگ میںبس تیرا ہی نام، میری روح کا ٹھکانہ ہو
ہو... حق علی، حق علی، دمِ مست قلندرمیری رگوں میں دوڑے، تیری یاد کا سمندرنہ کوئی دوری رہے، نہ کوئی پردہ درمیانتیرے جلووں میں کھو جائے، یہ میرا دلِ مضطر
تیری دہلیز پہ سر جھکائے، میں کھڑا ہوں کب سےنورِ حق ڈھونڈتا ہوں، اپنے ہی اندر کے رب سےیہ عشق کی آگ ہے، جو بجھائے نہ بجھے گیمیں مٹ جاؤں گا، مگر یہ تڑپ نہ مٹے گی
محبوبِ ربِ کائنات، تیری رحمت کا سایہ ہودل کی بستی میں بس، تیرا ہی نقارہ بجتا ہومیں فنا ہو جاؤں تیری چاہت کی آگ میںبس تیرا ہی نام، میری روح کا ٹھکانہ ہو
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، بس تو ہی تو ہےمیں نہیں، میں نہیں، بس تو ہی تو ہےحق... حق... حق... تو ہی تو ہے
مستِ قلندر کی پکار
روحانی طبلہ نواز اور سنگت
Preview