Skip to content
♪
Duration3:29

مستِ قلندر کی پکار

روحانی طبلہ نواز اور سنگت

Qawwali

About

یہ قوالی ایک روایتی روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں اجتماعی تالیوں اور سوال و جواب پر مبنی آوازوں کے ذریعے ایک جذباتی اور وجدانی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہوئے، کیف و سرور کی باتدل میں چھپے ہوئے اس دردِ حضور کی باتآنکھوں میں نمی، سانسوں میں تیرا ہی ناملبوں پہ مچلتی ہوئی، اس عشقِ غیور کی بات

verse

میں تو بس ایک ذرہ ہوں، تیری راہ کا خاکسارتیرے در کا گدا ہوں، تو ہی میرا پروردگارتیری تجلیوں سے روشن ہے میرا ہر ایک لمحہتیرے سوا کہاں ہے مجھے، کوئی بھی انتظار

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تیری رحمت کا سایہ ہودل کی بستی میں بس، تیرا ہی نقارہ بجتا ہومیں فنا ہو جاؤں تیری چاہت کی آگ میںبس تیرا ہی نام، میری روح کا ٹھکانہ ہو

improvisation

ہو... حق علی، حق علی، دمِ مست قلندرمیری رگوں میں دوڑے، تیری یاد کا سمندرنہ کوئی دوری رہے، نہ کوئی پردہ درمیانتیرے جلووں میں کھو جائے، یہ میرا دلِ مضطر

crescendo

تیری دہلیز پہ سر جھکائے، میں کھڑا ہوں کب سےنورِ حق ڈھونڈتا ہوں، اپنے ہی اندر کے رب سےیہ عشق کی آگ ہے، جو بجھائے نہ بجھے گیمیں مٹ جاؤں گا، مگر یہ تڑپ نہ مٹے گی

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تیری رحمت کا سایہ ہودل کی بستی میں بس، تیرا ہی نقارہ بجتا ہومیں فنا ہو جاؤں تیری چاہت کی آگ میںبس تیرا ہی نام، میری روح کا ٹھکانہ ہو

outro

بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، بس تو ہی تو ہےمیں نہیں، میں نہیں، بس تو ہی تو ہےحق... حق... حق... تو ہی تو ہے

مستِ قلندر کی پکار

روحانی طبلہ نواز اور سنگت

Preview