خواب کا صلہ
حقیقت خان
غزل
About
یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے ساتھ آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کی پروڈکشن میں صوتی وضاحت اور شاعری کے درد کو نمایاں کرنے کے لیے ایک پرسکون اور نجی ماحول تخلیق کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانیاں مہک اٹھیںجو بجھ گئی تھیں کبھی، وہ سب شمعیں چمک اٹھیںتلاشِ ذات میں نکلا تو راستہ ہی نہ مل سکامیری ہی آنکھ سے میری حقیقتیں الگ چھلک اٹھیں
کبھی جو پاس تھا وہ اب خیالوں میں بسا ہوا ہےیہ دل کا درد بھی اب زندگی کا ایک نشہ ہوا ہےجو ہم نے سوچا تھا وہ خواب ہی رہا اے دوستبکھر کے ٹوٹنا ہی اس محبت کا صلہ ہوا ہے
وہ دوریاں جو بڑھیں تو خود سے دور ہوگئے ہمتیری گلی کے پتھروں سے بھی مجبور ہوگئے ہمکوئی تو کہے اس خاموشی کو کہ اب بول اٹھےتیری یادوں کے حصار میں یوں ہی چور ہوگئے ہم
کبھی جو پاس تھا وہ اب خیالوں میں بسا ہوا ہےیہ دل کا درد بھی اب زندگی کا ایک نشہ ہوا ہےجو ہم نے سوچا تھا وہ خواب ہی رہا اے دوستبکھر کے ٹوٹنا ہی اس محبت کا صلہ ہوا ہے
بس اک دھواں ہے جو آنکھوں میں تیرتا ہے ابتیرا نام لے کر دل کا ہر زخم بھرتا ہے ابیہ سفر ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتاتیرے جانے کے بعد تو وقت بھی ڈرتا ہے اب
خواب کا صلہ
حقیقت خان
Preview