Skip to content
♪
Duration3:53

خواب کا صلہ

حقیقت خان

غزل

About

یہ غزل ایک گہرا اور جذباتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے ساتھ آواز کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کی پروڈکشن میں صوتی وضاحت اور شاعری کے درد کو نمایاں کرنے کے لیے ایک پرسکون اور نجی ماحول تخلیق کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانیاں مہک اٹھیںجو بجھ گئی تھیں کبھی، وہ سب شمعیں چمک اٹھیںتلاشِ ذات میں نکلا تو راستہ ہی نہ مل سکامیری ہی آنکھ سے میری حقیقتیں الگ چھلک اٹھیں

refrain

کبھی جو پاس تھا وہ اب خیالوں میں بسا ہوا ہےیہ دل کا درد بھی اب زندگی کا ایک نشہ ہوا ہےجو ہم نے سوچا تھا وہ خواب ہی رہا اے دوستبکھر کے ٹوٹنا ہی اس محبت کا صلہ ہوا ہے

instrumental-break
verse

وہ دوریاں جو بڑھیں تو خود سے دور ہوگئے ہمتیری گلی کے پتھروں سے بھی مجبور ہوگئے ہمکوئی تو کہے اس خاموشی کو کہ اب بول اٹھےتیری یادوں کے حصار میں یوں ہی چور ہوگئے ہم

refrain

کبھی جو پاس تھا وہ اب خیالوں میں بسا ہوا ہےیہ دل کا درد بھی اب زندگی کا ایک نشہ ہوا ہےجو ہم نے سوچا تھا وہ خواب ہی رہا اے دوستبکھر کے ٹوٹنا ہی اس محبت کا صلہ ہوا ہے

outro

بس اک دھواں ہے جو آنکھوں میں تیرتا ہے ابتیرا نام لے کر دل کا ہر زخم بھرتا ہے ابیہ سفر ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتاتیرے جانے کے بعد تو وقت بھی ڈرتا ہے اب

خواب کا صلہ

حقیقت خان

Preview