دیدارِ لا محدود
شمسِ طریقت
Qawwali
About
ایک جذباتی قوالی جس میں ہارمونیم کا مستقل سر، طبلی کے پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس آوازیں شامل ہیں۔ یہ فن پارہ ہاتھ کی تالیوں کے ساتھ مل کر ایک روحانی کیفیت اور وجدانی ماحول پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبا یہ جہاںہر ذرہ پکارے نامِ یاردل کی لگی ہے یہ آگجس نے کیا ہے بے قرار
تلاشِ حق میں نکلا ہوں میں گھر بار چھوڑ کرسب رسم و رواج کی زنجیریں توڑ کروہ جلوہ گر ہے ہر اک پلک کے سائے میںمیں ڈھونڈتا ہوں اسے خود کو مڑوڑ کر
یا علی، یا علی، دید کا طلبگار ہوںتیرے عشق میں، میں تو خود سے ہی بیزار ہوںمٹ گیا میں، تو ہی تو باقی بچاتیری چوکھٹ کا میں خاکسار ہوں
نہ مسجد کی قید، نہ مندر کی کوئی بندشمحبت کی راہ میں ہے بس اک کشمکشوہ خود ہی ہے سننے والا، وہ خود ہی بولنے والااسی کے دم سے ہے یہ سانسوں کی گردش
ہو... او... او...تیرے ذکر سے مہکے یہ روح و بدنہو... او... او...تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، اے میرے من
عشقِ حقیقی میں ڈوب جانے دےمجھ کو فنا کے پار جانے دےہاتھوں میں ہاتھ، اور دل میں تیری یاداس مستی میں سب کچھ بھلانے دےتو ہی تو ہے! تو ہی تو ہے!
خاموشی میں بھی تیرا ہی نام ہےمیری ہر سانس پر تیرا ہی کام ہےمٹ گیا میں، مٹ گیا میںبس تیرا ہی مقام ہےبس تیرا ہی مقام ہے
دیدارِ لا محدود
شمسِ طریقت
Preview