Skip to content
Duration4:05

دیدارِ لا محدود

شمسِ طریقت

Qawwali

About

ایک جذباتی قوالی جس میں ہارمونیم کا مستقل سر، طبلی کے پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس آوازیں شامل ہیں۔ یہ فن پارہ ہاتھ کی تالیوں کے ساتھ مل کر ایک روحانی کیفیت اور وجدانی ماحول پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبا یہ جہاںہر ذرہ پکارے نامِ یاردل کی لگی ہے یہ آگجس نے کیا ہے بے قرار

verse

تلاشِ حق میں نکلا ہوں میں گھر بار چھوڑ کرسب رسم و رواج کی زنجیریں توڑ کروہ جلوہ گر ہے ہر اک پلک کے سائے میںمیں ڈھونڈتا ہوں اسے خود کو مڑوڑ کر

chorus

یا علی، یا علی، دید کا طلبگار ہوںتیرے عشق میں، میں تو خود سے ہی بیزار ہوںمٹ گیا میں، تو ہی تو باقی بچاتیری چوکھٹ کا میں خاکسار ہوں

verse

نہ مسجد کی قید، نہ مندر کی کوئی بندشمحبت کی راہ میں ہے بس اک کشمکشوہ خود ہی ہے سننے والا، وہ خود ہی بولنے والااسی کے دم سے ہے یہ سانسوں کی گردش

improvisation

ہو... او... او...تیرے ذکر سے مہکے یہ روح و بدنہو... او... او...تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، اے میرے من

crescendo

عشقِ حقیقی میں ڈوب جانے دےمجھ کو فنا کے پار جانے دےہاتھوں میں ہاتھ، اور دل میں تیری یاداس مستی میں سب کچھ بھلانے دےتو ہی تو ہے! تو ہی تو ہے!

outro

خاموشی میں بھی تیرا ہی نام ہےمیری ہر سانس پر تیرا ہی کام ہےمٹ گیا میں، مٹ گیا میںبس تیرا ہی مقام ہےبس تیرا ہی مقام ہے

دیدارِ لا محدود

شمسِ طریقت

Preview

دیدارِ لا محدود by شمسِ طریقت | EchoLoRA: Generate a Song with AI