Skip to content
Duration4:16

سفرِ ادھورا

شیروان زادہ

غزل

About

ایک گہری اور جذباتی غزل جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے ساتھ آواز کو مرکزیت دی گئی ہے۔ یہ تخلیق صوتی اعتبار سے انتہائی نفاست کے ساتھ تیار کی گئی ہے تاکہ شاعری کے درد اور احساسات کو بخوبی اجاگر کیا جا سکے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہک اٹھاکسی سوکھے ہوئے پتھر میں جیسے اک جان سی آ گئییہ کیسا رشتہ ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتاتیری خاموشی میں بھی مجھے کوئی داستاں سنائی دی

refrain

تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے

instrumental-break
verse

کبھی سوچا نہ تھا ہم بھی بدل جائیں گے یوں خود سےتیری الفت نے ہم کو ہم سے ہی بیگانہ کر دیاوہ جو دیواریں تھیں بیچ میں، اب مٹ رہی ہیں سبتیری چاہت نے ہر اک بند دروازہ وا کر دیا

refrain

تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے

verse

ستاروں کی چمک میں بھی تیرا ہی عکس ملتا ہےشبِ تنہائی میں یہ دل تجھے ہی پکارتا رہاکوئی تو راہ ہوگی جو ہمیں تجھ تک لے آئے گیمیں برسوں سے اسی امید کا دامن سنبھالے رہا

refrain

تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے

outro

بس تیرا ہی نام باقی ہے میری ہر سانس میںتیرے بن جینا اب خود کو مٹانا ہی تو ہےتیرے بن جینا اب خود کو مٹانا ہی تو ہے

سفرِ ادھورا

شیروان زادہ

Preview

سفرِ ادھورا by شیروان زادہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI