سفرِ ادھورا
شیروان زادہ
غزل
About
ایک گہری اور جذباتی غزل جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے ساتھ آواز کو مرکزیت دی گئی ہے۔ یہ تخلیق صوتی اعتبار سے انتہائی نفاست کے ساتھ تیار کی گئی ہے تاکہ شاعری کے درد اور احساسات کو بخوبی اجاگر کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہک اٹھاکسی سوکھے ہوئے پتھر میں جیسے اک جان سی آ گئییہ کیسا رشتہ ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتاتیری خاموشی میں بھی مجھے کوئی داستاں سنائی دی
تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے
کبھی سوچا نہ تھا ہم بھی بدل جائیں گے یوں خود سےتیری الفت نے ہم کو ہم سے ہی بیگانہ کر دیاوہ جو دیواریں تھیں بیچ میں، اب مٹ رہی ہیں سبتیری چاہت نے ہر اک بند دروازہ وا کر دیا
تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے
ستاروں کی چمک میں بھی تیرا ہی عکس ملتا ہےشبِ تنہائی میں یہ دل تجھے ہی پکارتا رہاکوئی تو راہ ہوگی جو ہمیں تجھ تک لے آئے گیمیں برسوں سے اسی امید کا دامن سنبھالے رہا
تیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہےتیرے بن زندگی کا سفر ہے ادھورا ساتیری یادوں کے سائے میں جینا گوارا ہے
بس تیرا ہی نام باقی ہے میری ہر سانس میںتیرے بن جینا اب خود کو مٹانا ہی تو ہےتیرے بن جینا اب خود کو مٹانا ہی تو ہے
سفرِ ادھورا
شیروان زادہ
Preview