محبوبِ الہیٰ
استاد شبیر عاشق
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کی گہری دھن اور طبلے کی تیز تالوں پر مبنی ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جوشیلے انداز میں سوال و جواب اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہمتیرے نام پہ خود کو ہی بھول گئے ہمنظروں سے تیری جو پل پل پیاسااُسی پیاس میں اب تو ڈھل گئے ہم
میں کٹھن راہوں کا مسافر، تو میری منزلِ مقصود ہےتیرے قدموں کی خاک میں ہی، میرا سارا وجود ہےمیں نے ڈھونڈا جہاں میں تجھ کو، مگر تو تو میرے اندر ہےمیری روح کی ہر اک دھڑکن، تیرے ہی نام سے منور ہے
محبوبِ الہیٰ، تُو ہی تو ہےمیری جاں کا سکون، تُو ہی تو ہےتیرے در کا گدا، تیرے در کا فقیرمیری تقدیر کا تُو ہی تو ہے
میں ناداں ہوں، میں پاگل ہوں، تیرے عشق میں دیوانہ ہوںتیرے جلووں کی تاب لانے کا، میں کہاں اب ٹھکانہ ہوںیہ دنیا تو بس ایک سراب ہے، تیرے چہرے کا عکس ہی سب ہےمیں فنا ہو جاؤں تیری چاہ میں، یہی تو میرا اصلِ مطلب ہے
محبوبِ الہیٰ، تُو ہی تو ہےمیری جاں کا سکون، تُو ہی تو ہےتیرے در کا گدا، تیرے در کا فقیرمیری تقدیر کا تُو ہی تو ہے
ہو... ہو...میرا دل، میرا دھیان، میری روح، میری پہچانسب تیرے نام، سب تیرے نامتجھ سے شروع، تجھ پہ ختمیہ زندگی، یہ کائنات، یہ سب تیرے نام
جل اٹھا ہے چراغِ دل، اب تو آ جا میرے سامنےتڑپتا ہے یہ وجود میرا، تیرے جلووں کے پانے کے واسطےہو جاؤں میں خاکِ راہ، ہو جاؤں میں تیرے فنااب تو کر دے کرم، اب تو کر دے عطا
محبوبِ الہیٰ، تُو ہی تو ہےمیری جاں کا سکون، تُو ہی تو ہےتیرے در کا گدا، تیرے در کا فقیرمیری تقدیر کا تُو ہی تو ہے
تُو ہی تو ہے...تُو ہی تو ہے...سب کچھ تُو ہی تو ہے...میں تو بس ایک نام ہوں، اصل میں تُو ہی تو ہے...
محبوبِ الہیٰ
استاد شبیر عاشق
Preview