Skip to content
تمہاری بزم میں
Duration2:56

تمہاری بزم میں

شہزادِ غزل

غزل

About

یہ غزل روایتی ہندستانی موسیقی کے اصولوں پر مبنی ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا پروڈکشن انداز مکمل طور پر ووکل سینٹرڈ ہے، جس میں شاعرانہ گہرائی اور جذبات کو اجاگر کرنے کے لیے کم سے کم سازوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro
verse

کبھی تو یاد کر کے مسکرا دیا کروخفا ہو مجھ سے تو خود کو سزا دیا کرو

refrain

تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو

verse

وہ ایک لمحہ جو ہم نے گزارا تھا ساتھاس ایک یاد کو دل میں بسا دیا کرو

refrain

تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو

instrumental-break
verse

میں اپنی ذات میں گم ہوں عجب سی وحشت ہےتم آؤ پاس اور مجھ کو مٹا دیا کرو

refrain

تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو

outro

دیے جلائے ہیں میں نے تمہاری راہوں میںکبھی تو آؤ اور ان کو بجھا دیا کرو

تمہاری بزم میں

شہزادِ غزل

Preview

تمہاری بزم میں by شہزادِ غزل | EchoLoRA: Generate a Song with AI