تمہاری بزم میں
شہزادِ غزل
غزل
About
یہ غزل روایتی ہندستانی موسیقی کے اصولوں پر مبنی ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گانے کا پروڈکشن انداز مکمل طور پر ووکل سینٹرڈ ہے، جس میں شاعرانہ گہرائی اور جذبات کو اجاگر کرنے کے لیے کم سے کم سازوں کا استعمال کیا گیا ہے۔
Lyrics
کبھی تو یاد کر کے مسکرا دیا کروخفا ہو مجھ سے تو خود کو سزا دیا کرو
تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو
وہ ایک لمحہ جو ہم نے گزارا تھا ساتھاس ایک یاد کو دل میں بسا دیا کرو
تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو
میں اپنی ذات میں گم ہوں عجب سی وحشت ہےتم آؤ پاس اور مجھ کو مٹا دیا کرو
تمہاری بزم میں ہم ہیں تو کچھ نہیں کہتےمگر نگاہوں سے تم بھی صدا دیا کرو
دیے جلائے ہیں میں نے تمہاری راہوں میںکبھی تو آؤ اور ان کو بجھا دیا کرو
تمہاری بزم میں
شہزادِ غزل
Preview