خوابوں کا بادل
آفتاب عالمگیر
غزل
About
یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور تخلیق ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے نمونے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ووکل سینٹرڈ مکس میں شاعری کی گہرائی اور درد کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے جو سامعین کو ایک پرسکون اور یادگار تجربہ فراہم کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہک اٹھاکسی کی یاد کا جوگ، دل میں پھر سے بہک اٹھاوہ جو بکھرے تھے خواب آنکھوں میں، اب وہ بادل ہوئےتیرے لمس کی گرمی سے میرا ہر ایک زخم چہک اٹھا
میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے
کبھی فرصت ملے تو پوچھنا اپنی ان آنکھوں سےکہ کیوں ہر راستہ تیری ہی جانب جھک اٹھاوہ جو قصے پرانے تھے، وہ اب مٹی میں دفن ہوئےتیرے وعدوں کا سایہ میری روح پہ آ کے رک اٹھا
میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے
یہ کیسا درد ہے جو میرے اندر ہی پلتا ہےکسی کے ہجر کا موسم، میرے سینے میں دہک اٹھامیں لکھتا ہوں جو نام تیرا، ورق بھی رو پڑتا ہےتیرے ملنے کا جو وعدہ تھا، وہ اب اک شک اٹھا
میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے
بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیری چاہت ساتھ چلتی ہےتیرے بن، سب خاموشی ہے
خوابوں کا بادل
آفتاب عالمگیر
Preview