Skip to content
♪
Duration3:54

خوابوں کا بادل

آفتاب عالمگیر

غزل

About

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور تخلیق ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے نمونے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ووکل سینٹرڈ مکس میں شاعری کی گہرائی اور درد کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے جو سامعین کو ایک پرسکون اور یادگار تجربہ فراہم کرتی ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہک اٹھاکسی کی یاد کا جوگ، دل میں پھر سے بہک اٹھاوہ جو بکھرے تھے خواب آنکھوں میں، اب وہ بادل ہوئےتیرے لمس کی گرمی سے میرا ہر ایک زخم چہک اٹھا

refrain

میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے

instrumental-break
verse

کبھی فرصت ملے تو پوچھنا اپنی ان آنکھوں سےکہ کیوں ہر راستہ تیری ہی جانب جھک اٹھاوہ جو قصے پرانے تھے، وہ اب مٹی میں دفن ہوئےتیرے وعدوں کا سایہ میری روح پہ آ کے رک اٹھا

refrain

میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے

verse

یہ کیسا درد ہے جو میرے اندر ہی پلتا ہےکسی کے ہجر کا موسم، میرے سینے میں دہک اٹھامیں لکھتا ہوں جو نام تیرا، ورق بھی رو پڑتا ہےتیرے ملنے کا جو وعدہ تھا، وہ اب اک شک اٹھا

refrain

میں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہےمیری سانسوں میں بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیں تنہا ہوں، مگر تیری چاہت ساتھ چلتی ہے

outro

بس تیری ہی عبادت ساتھ چلتی ہےمیری چاہت ساتھ چلتی ہےتیرے بن، سب خاموشی ہے

خوابوں کا بادل

آفتاب عالمگیر

Preview