دردِ رگِ جاں
شہریارِ غزل
غزل
About
یہ غزل روایتی ہندستانی کلاسیکی موسیقی کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی نپی تلی تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مبنی اس مکس میں جذبات کی گہرائی اور شاعری کے نفاست کو نمایاں کیا گیا ہے، جو ایک پرسکون اور جذباتی ماحول پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہےیہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہے
کبھی جو خواب میں دیکھی تھی اک جھلک اس کیوہ عکسِ یار ابھی تک نظر میں پلتا ہےمیں اپنی ذات کے صحرا میں کھو گیا ہوں مگروہ نام لب پہ میرے اب بھی مچلتا ہے
یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے
ہزاروں موسمِ ہجراں گزر گئے ہم پروہ ایک پل جو ترا تھا وہ کیوں نہیں ٹلتا ہےمیں جس چراغ کو پلکوں سے ڈھانپ لیتا ہوںوہ ایک شخص ہی بس میری جاں میں جلتا ہے
یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے
یہ شہرِ خاموشیاں ہے اور میں تنہا ہوںوہ کون ہے جو مجھے نام لے کے بلاتا ہےمیں لکھ رہا ہوں اسے اپنے خونِ جگر سےوہ لفظ جو میرے کاغذ پہ آکے ڈھلتا ہے
یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے
بس اب تو ختم ہوئی داستانِ دیوانگیوہ اک ستارہ جو شب بھر یہاں پہ جلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہےیہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہے
دردِ رگِ جاں
شہریارِ غزل
Preview