Skip to content
Duration3:30

دردِ رگِ جاں

شہریارِ غزل

غزل

About

یہ غزل روایتی ہندستانی کلاسیکی موسیقی کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی نپی تلی تال کا امتزاج ہے۔ آواز پر مبنی اس مکس میں جذبات کی گہرائی اور شاعری کے نفاست کو نمایاں کیا گیا ہے، جو ایک پرسکون اور جذباتی ماحول پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

Intro

تیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہےیہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہے

Verse 1

کبھی جو خواب میں دیکھی تھی اک جھلک اس کیوہ عکسِ یار ابھی تک نظر میں پلتا ہےمیں اپنی ذات کے صحرا میں کھو گیا ہوں مگروہ نام لب پہ میرے اب بھی مچلتا ہے

Refrain

یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے

Verse 2

ہزاروں موسمِ ہجراں گزر گئے ہم پروہ ایک پل جو ترا تھا وہ کیوں نہیں ٹلتا ہےمیں جس چراغ کو پلکوں سے ڈھانپ لیتا ہوںوہ ایک شخص ہی بس میری جاں میں جلتا ہے

Refrain

یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے

Instrumental-break
Verse 3

یہ شہرِ خاموشیاں ہے اور میں تنہا ہوںوہ کون ہے جو مجھے نام لے کے بلاتا ہےمیں لکھ رہا ہوں اسے اپنے خونِ جگر سےوہ لفظ جو میرے کاغذ پہ آکے ڈھلتا ہے

Refrain

یہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہے

Outro

بس اب تو ختم ہوئی داستانِ دیوانگیوہ اک ستارہ جو شب بھر یہاں پہ جلتا ہےتیرے خیال کی دستک سے دل دہلتا ہےیہ کیسا درد ہے جو رگ رگ میں چلتا ہے

دردِ رگِ جاں

شہریارِ غزل

Preview

دردِ رگِ جاں by شہریارِ غزل | EchoLoRA: Generate a Song with AI