Skip to content
Duration3:18

تشنہ لب کی پکار

فیضانِ قوال اور ساتھی

قوالی

About

یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مِرے دل میں ہے اک طوفانِ بندگیمِرے لب پہ ہے بس تیری ہی تشنہ لبمیں خاکِ رہ ہوں، تُو نورِ ازلتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم یہ سب

verse

میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھاتیری چوکھٹ نے دی مجھے پہچانمیری ہستی میں تیرا ہی عکس ہےتجھ سے روشن ہے میرا یہ جہانمیں نے مانگا نہیں کچھ بھی تجھ سے کبھیبس تری دید کا ہے یہ سارا سامان

chorus

مستی میں ڈوبے، تیرے رنگ میں رنگےہم تو دیوانے، تیرے نام پہ جی اٹھےتیری الفت کا یہ کیسا نشہ ہےہم تو خود کو بھی اب بھول بیٹھے

verse

کوئی پوچھے جو مجھ سے کہ منزل کہاں؟میں کہوں گا کہ اس کے ہی قدموں میں ہےجس نے بخشا مجھے یہ جہاں کا دردمیرا سارا سکون اس کے دم میں ہےمیں تو مٹی کا پتلا، وہ شہِ خوباںمیرا جینا، مرنا سب اس کے کرم میں ہے

improvisation

ہو، مولیٰ، ہو میرے پیارےتیرے در کے بھکاری، ہم تو ہارےتیری یادوں کے گلشن میں کھو گئےتیرے عشق کے شعلوں میں سو گئے

crescendo

تیرا نام ہی میرا وردِ زباںتیرا ذکر ہی میری کلِ جہاںبے خودی میں بھی ہم تجھ کو ڈھونڈیںتیرے بن تو ہے سب کچھ دھواں دھواںتیرے بن تو ہے سب کچھ دھواں دھواں

chorus

مستی میں ڈوبے، تیرے رنگ میں رنگےہم تو دیوانے، تیرے نام پہ جی اٹھےتیری الفت کا یہ کیسا نشہ ہےہم تو خود کو بھی اب بھول بیٹھے

outro

بس تُو ہی تُو، اب ہے ہر سوتیری چاہت میں، ہم تو کھو گئےتیری چاہت میں، ہم تو کھو گئےتُو ہی تُو، تُو ہی تُوبس تُو ہی تُو۔

تشنہ لب کی پکار

فیضانِ قوال اور ساتھی

Preview

تشنہ لب کی پکار by فیضانِ قوال اور ساتھی | EchoLoRA: Generate a Song with AI