تشنہ لب کی پکار
فیضانِ قوال اور ساتھی
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس گلوکاری اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک پرجوش کریسینڈو تخلیق کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
مِرے دل میں ہے اک طوفانِ بندگیمِرے لب پہ ہے بس تیری ہی تشنہ لبمیں خاکِ رہ ہوں، تُو نورِ ازلتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم یہ سب
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھاتیری چوکھٹ نے دی مجھے پہچانمیری ہستی میں تیرا ہی عکس ہےتجھ سے روشن ہے میرا یہ جہانمیں نے مانگا نہیں کچھ بھی تجھ سے کبھیبس تری دید کا ہے یہ سارا سامان
مستی میں ڈوبے، تیرے رنگ میں رنگےہم تو دیوانے، تیرے نام پہ جی اٹھےتیری الفت کا یہ کیسا نشہ ہےہم تو خود کو بھی اب بھول بیٹھے
کوئی پوچھے جو مجھ سے کہ منزل کہاں؟میں کہوں گا کہ اس کے ہی قدموں میں ہےجس نے بخشا مجھے یہ جہاں کا دردمیرا سارا سکون اس کے دم میں ہےمیں تو مٹی کا پتلا، وہ شہِ خوباںمیرا جینا، مرنا سب اس کے کرم میں ہے
ہو، مولیٰ، ہو میرے پیارےتیرے در کے بھکاری، ہم تو ہارےتیری یادوں کے گلشن میں کھو گئےتیرے عشق کے شعلوں میں سو گئے
تیرا نام ہی میرا وردِ زباںتیرا ذکر ہی میری کلِ جہاںبے خودی میں بھی ہم تجھ کو ڈھونڈیںتیرے بن تو ہے سب کچھ دھواں دھواںتیرے بن تو ہے سب کچھ دھواں دھواں
مستی میں ڈوبے، تیرے رنگ میں رنگےہم تو دیوانے، تیرے نام پہ جی اٹھےتیری الفت کا یہ کیسا نشہ ہےہم تو خود کو بھی اب بھول بیٹھے
بس تُو ہی تُو، اب ہے ہر سوتیری چاہت میں، ہم تو کھو گئےتیری چاہت میں، ہم تو کھو گئےتُو ہی تُو، تُو ہی تُوبس تُو ہی تُو۔
تشنہ لب کی پکار
فیضانِ قوال اور ساتھی
Preview