محبوبِ ربِ کائنات
فیضانِ صوفی
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گانے میں کال اینڈ ریسپانس (سوال و جواب) کے انداز اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک روحانی فضا قائم کی گئی ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہوئے، ہوش و خرد سے دوردل کی لگی ہے آگ، اور آنکھوں میں ہے نورلب پہ وہی نام، وہی ذکرِ مسلسلتیرے ہی در کے ہم گدا، تیری ہی راہ میں چور
کبھی خود سے ملے، تو تجھ کو پایا ہےاپنے ہی اندر، تجھ کو چھپایا ہےمیں تو نہ تھا، یہ تیرا ہی عکس ہےجس نے اس وجود کو، سجدوں میں سجایا ہے
محبوبِ ربِ کائنات، تجھ پہ میری جاں قربانتیرے نام سے ہی روشن، ہے یہ سارا جہاناے عشقِ حقیقی، اے رازِ نہاںمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ کا نشان
خودی کے بت کو توڑ کر، میں نے تجھ کو ڈھونڈاتیرے عشق میں ہر رشتہ، میں نے ہے چھوڑانہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہ باقیتیرے ہی قدموں میں، اپنا مقدر جوڑا
ہو... حق، حق، حق، حقتیرا ہی ذکر، میرا ہی فقرمٹ گئے ہم، رہ گیا تو ہی توتیرا ہی جلوہ، ہر سو، ہر سو
دیوانگی ہے، یہ تیری عنایتمٹ جائے گی، یہ دنیا کی شکایتتیرا ہی نام، میری آخری پکارتیرے در پہ ہی ہوگی، میری مغفرت
محبوبِ ربِ کائنات، تجھ پہ میری جاں قربانتیرے نام سے ہی روشن، ہے یہ سارا جہاناے عشقِ حقیقی، اے رازِ نہاںمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ کا نشان
تو ہی اول، تو ہی آخرتو ہی باطن، تو ہی ظاہربس تو ہی، بس تو ہیتو ہی، تو ہی، تو ہی...
محبوبِ ربِ کائنات
فیضانِ صوفی
Preview