Skip to content
Duration3:53

محبوبِ ربِ کائنات

فیضانِ صوفی

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گانے میں کال اینڈ ریسپانس (سوال و جواب) کے انداز اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک روحانی فضا قائم کی گئی ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہوئے، ہوش و خرد سے دوردل کی لگی ہے آگ، اور آنکھوں میں ہے نورلب پہ وہی نام، وہی ذکرِ مسلسلتیرے ہی در کے ہم گدا، تیری ہی راہ میں چور

verse

کبھی خود سے ملے، تو تجھ کو پایا ہےاپنے ہی اندر، تجھ کو چھپایا ہےمیں تو نہ تھا، یہ تیرا ہی عکس ہےجس نے اس وجود کو، سجدوں میں سجایا ہے

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تجھ پہ میری جاں قربانتیرے نام سے ہی روشن، ہے یہ سارا جہاناے عشقِ حقیقی، اے رازِ نہاںمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ کا نشان

verse

خودی کے بت کو توڑ کر، میں نے تجھ کو ڈھونڈاتیرے عشق میں ہر رشتہ، میں نے ہے چھوڑانہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہ باقیتیرے ہی قدموں میں، اپنا مقدر جوڑا

improvisation

ہو... حق، حق، حق، حقتیرا ہی ذکر، میرا ہی فقرمٹ گئے ہم، رہ گیا تو ہی توتیرا ہی جلوہ، ہر سو، ہر سو

crescendo

دیوانگی ہے، یہ تیری عنایتمٹ جائے گی، یہ دنیا کی شکایتتیرا ہی نام، میری آخری پکارتیرے در پہ ہی ہوگی، میری مغفرت

chorus

محبوبِ ربِ کائنات، تجھ پہ میری جاں قربانتیرے نام سے ہی روشن، ہے یہ سارا جہاناے عشقِ حقیقی، اے رازِ نہاںمیری سانسوں کی ڈور، تیرے ہاتھ کا نشان

outro

تو ہی اول، تو ہی آخرتو ہی باطن، تو ہی ظاہربس تو ہی، بس تو ہیتو ہی، تو ہی، تو ہی...

محبوبِ ربِ کائنات

فیضانِ صوفی

Preview

محبوبِ ربِ کائنات by فیضانِ صوفی | EchoLoRA: Generate a Song with AI