Skip to content
♪
Duration3:09

فنا کی جستجو

سید شاہد قادری

قوالی

About

یہ قوالی ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی مسلسل گونج، طبلہ کی پیچیدہ تالیں اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس آوازیں شامل ہیں۔ اس میں تالیوں کی تھاپ اور جذباتی عروج کے ساتھ صوفیانہ عشق کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے عشق کی آگ میں جل گئے ہماپنے ہی وجود سے نکل گئے ہمتیرے نام کی لہریں ہیں رگوں میںخودی کی حدوں سے مچل گئے ہم

verse

کہیں ڈھونڈوں تجھے اے میرے مالکمیرا دل ہے تیرا ہی اک مسافرتلاشِ حقیقت میں نکلا ہوں گھر سےتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخرمیری سانسوں میں تیرا ہی ذکر ہےمیری آنکھوں میں تیرا ہی عکس ہے

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوںاس راز کی گہرائی میں کھو گیا ہوںعشقِ حقیقی کا پیالہ پیا ہےمیں خود سے مل کر بھی سو گیا ہوں

improvisation

ہو، رنگِ الٰہی میں رنگ جاؤںتیری چوکھٹ پہ ہی میں بس جاؤںنہ ہو کوئی دوری، نہ ہو کوئی پردہتیرے وصال کی آگ میں جل جاؤں

crescendo

مدد کر، اے مالکِ کل جہاںتیرے سوا کون ہے میرا یہاںمیری روح پکارے تیرا ہی ناممیرا سب کچھ ہے تجھ پہ ہی قربانتیرے عشق میں فنا ہونا ہےتیرے نور میں ہی بسا ہونا ہے

outro

بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری خاموشی میں بھی تو ہی تو ہےفنا ہو گیا میں، بقا پا گیا میںتیرے عشق میں ہی خدا پا گیا میں

فنا کی جستجو

سید شاہد قادری

Preview