محبوبِ حقیقی
استاد فرید حیدر
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ گیت میں کال اینڈ ریسپانس (سوال و جواب) کے انداز میں صوفیانہ کلام پیش کیا گیا ہے، جس میں تالیوں کی تھاپ اور پرجوش صوفیانہ کیفیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری بکھری ہوئی روح کو تیری ہی ضیا ہےمیں ڈھونڈتا تھا جسے، وہ تو میرے اندر ہےیہ کیسا عشق ہے جس میں، ہر سمت ہی منظر ہے
میں تو خاک کا ذرہ تھا، تیری نظر نے چمکایاتیری یاد کی تپش نے، مجھے مجھ سے ہی ملوایاوہ جو پردے تھے حائل، وہ سب اب مٹ گئے ہیںتیرے جلوے کے سائے میں، میرے غم سب چھٹ گئے ہیں
محبوبِ حقیقی، مری روح کا ہے ٹھکانہتیرے عشق میں کھونا ہی، ہے اصل میں پانامیں مست ہوا، میں رقص میں ہوں، تیری ہی چاہت میںتجھ میں ہی فنا ہونا، ہے اک نیا زمانہ
کوئی پوچھے جو مجھ سے، کیا پایا ہے تو نے؟میں کہوں گا اسے، جو نہ دیکھے زمانےوہ جو دل کی دھڑکن میں، ایک نام سا بجتا ہےاسی نام کی مستی میں، یہ جیون اب سجتا ہے
ہو... حق علی، حق علی، تیری ذات ہی باقیہو... سب فانی ہے، صرف تو ہی ہے ساقیمیری تڑپ، میری پکار، تجھ تک ہی جائےتیری رحمت کا بادل، مجھ پر برس جائے
تیرا ہی نور، میرا وجود، اک رنگ میں رنگےتیرے سجدے میں سر جھکے، تو سب غم مٹیں گےمیں مٹ رہا ہوں، میں مٹ رہا ہوں، تیری ہی چاہ میںتیرے در پہ پہنچ کے، سب رستے ملیں گے
محبوبِ حقیقی، مری روح کا ہے ٹھکانہتیرے عشق میں کھونا ہی، ہے اصل میں پانامیں مست ہوا، میں رقص میں ہوں، تیری ہی چاہت میںتجھ میں ہی فنا ہونا، ہے اک نیا زمانہ
بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، بس تو ہی تو ہےتجھ میں گم، تجھ میں گم، میں ہو گیاتیری ذات میں، میں کھو گیاحق... حق... حق...
محبوبِ حقیقی
استاد فرید حیدر
Preview