ویرانہ مہکتا ہے
شہریار قریشی
غزل
About
یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور تخلیق ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے نمونوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ووکل سینٹرڈ مکس میں شاعری کی گہرائی اور گلوکاری کے باریک اتار چڑھاؤ کو مرکزیت دی گئی ہے جو سننے والے کو ایک پرسکون اور روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہکتا ہےتمہارے نام پر اب تو میرا ہر خواب دھڑکتا ہےوہ اک پل کی جدائی بھی قیامت بن کے ٹوٹے ہےمگر دل ہے کہ پھر بھی تیری راہوں میں بھٹکتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیرے بن زندگی کا ہر سفر اب دم توڑتا ہے
کبھی فرصت ملے تو خود سے آ کر پوچھ لینا تمکہ کیوں یہ آئینہ اب اپنا چہرہ دیکھنے سے ڈرتا ہےتمہاری یاد کے تارے ابھی تک جگمگاتے ہیںمگر یہ دل اندھیروں میں ہی اب سجدے میں گرتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیرے بن زندگی کا ہر سفر اب دم توڑتا ہے
بکھر جانے کی حسرت میں، میں خود کو ڈھونڈ لیتا ہوںتیرا ہونا ہی میرے واسطے اب سب سے بڑا رتبہ ہے
ویرانہ مہکتا ہے
شہریار قریشی
Preview