Skip to content
Duration3:25

ویرانہ مہکتا ہے

شہریار قریشی

غزل

About

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور صوتی اعتبار سے بھرپور تخلیق ہے، جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کے روایتی تال کے نمونوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ووکل سینٹرڈ مکس میں شاعری کی گہرائی اور گلوکاری کے باریک اتار چڑھاؤ کو مرکزیت دی گئی ہے جو سننے والے کو ایک پرسکون اور روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہکتا ہےتمہارے نام پر اب تو میرا ہر خواب دھڑکتا ہےوہ اک پل کی جدائی بھی قیامت بن کے ٹوٹے ہےمگر دل ہے کہ پھر بھی تیری راہوں میں بھٹکتا ہے

refrain

محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیرے بن زندگی کا ہر سفر اب دم توڑتا ہے

instrumental-break
verse

کبھی فرصت ملے تو خود سے آ کر پوچھ لینا تمکہ کیوں یہ آئینہ اب اپنا چہرہ دیکھنے سے ڈرتا ہےتمہاری یاد کے تارے ابھی تک جگمگاتے ہیںمگر یہ دل اندھیروں میں ہی اب سجدے میں گرتا ہے

refrain

محبت کی یہ کیسی آگ ہے جو بجھ نہیں پاتیتیرے بن زندگی کا ہر سفر اب دم توڑتا ہے

outro

بکھر جانے کی حسرت میں، میں خود کو ڈھونڈ لیتا ہوںتیرا ہونا ہی میرے واسطے اب سب سے بڑا رتبہ ہے

ویرانہ مہکتا ہے

شہریار قریشی

Preview

ویرانہ مہکتا ہے by شہریار قریشی | EchoLoRA: Generate a Song with AI