Skip to content
Duration5:07

محبت کی آگ

شہریار کمال

غزل

About

ایک کلاسیکی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس میں آواز کا گہرا پن اور جذباتی ادائیگی شاعری کے درد کو اجاگر کرتی ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے، یہ دل اب بھی دھڑکتا ہےتیری یادوں کا موسم ہے، جو ہر لمحہ برستا ہےمیں ڈھونڈوں خود کو رستوں میں، جہاں تو چھوڑ آیا تھاوہ تیرا ہاتھ چھڑ جانا، مجھے اب بھی تڑپاتا ہے

refrain

محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے

verse

کبھی تو خواب بن کر آ، میری آنکھوں میں بس جا توکہیں کھوئی ہوئی خوشبو، میری سانسوں میں رچ جا تومیں کاغذ پر لکھوں تجھ کو، مگر لفظوں میں کیا لکھوںمیری ہر ایک تحریر میں، بس تیرا نام ہی ملتا ہے

refrain

محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے

instrumental-break
verse

یہ دنیا کے سبھی چہرے، مجھے اجنبی سے لگتے ہیںتیری تصویر کے سائے، ہی اب مجھ کو سنبھالتے ہیںکوئی پوچھے جو مجھ سے اب، کہ کیا کھویا، کیا پایاتو بس خاموش رہ کر میں، تیرا ہی درد سہتا ہے

refrain

محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے

outro

بچھڑ کر بھی تو میرے پاس ہے، دل کے دریچوں میںتیرا ہی عکس ہے باقی، مری ویران آنکھوں میںباقی مری ویران آنکھوں میں...

محبت کی آگ

شہریار کمال

Preview

محبت کی آگ by شہریار کمال | EchoLoRA: Generate a Song with AI