محبت کی آگ
شہریار کمال
غزل
About
ایک کلاسیکی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس میں آواز کا گہرا پن اور جذباتی ادائیگی شاعری کے درد کو اجاگر کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے، یہ دل اب بھی دھڑکتا ہےتیری یادوں کا موسم ہے، جو ہر لمحہ برستا ہےمیں ڈھونڈوں خود کو رستوں میں، جہاں تو چھوڑ آیا تھاوہ تیرا ہاتھ چھڑ جانا، مجھے اب بھی تڑپاتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے
کبھی تو خواب بن کر آ، میری آنکھوں میں بس جا توکہیں کھوئی ہوئی خوشبو، میری سانسوں میں رچ جا تومیں کاغذ پر لکھوں تجھ کو، مگر لفظوں میں کیا لکھوںمیری ہر ایک تحریر میں، بس تیرا نام ہی ملتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے
یہ دنیا کے سبھی چہرے، مجھے اجنبی سے لگتے ہیںتیری تصویر کے سائے، ہی اب مجھ کو سنبھالتے ہیںکوئی پوچھے جو مجھ سے اب، کہ کیا کھویا، کیا پایاتو بس خاموش رہ کر میں، تیرا ہی درد سہتا ہے
محبت کی یہ کیسی آگ ہے، جو بجھ کے بھی جلتی ہےمیری تنہائی کی محفل میں، بس تیری ہی بات چلتی ہے
بچھڑ کر بھی تو میرے پاس ہے، دل کے دریچوں میںتیرا ہی عکس ہے باقی، مری ویران آنکھوں میںباقی مری ویران آنکھوں میں...
محبت کی آگ
شہریار کمال
Preview