تیرے در کا گداگر
استاد فیضان قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ گانے کے دوران کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ اسے ایک محفلِ سماع کا روپ دیتی ہے، جس میں صوفیانہ کلام کے ساتھ پرجوش اور سریلی آواز کا جادو شامل ہے۔
Lyrics
یا رب!تُو ہی اول، تُو ہی آخرتُو ہی باطن، تُو ہی ظاہرمیری روح پیاسی ہے تیری دید کیمیری سانسیں ہیں محتاج تیری قربت کی
عشق کی راہ میں قدم رکھا تو کھو گیا میںاپنے ہی وجود سے خود ہی جدا ہو گیا میںنہ کوئی منزل باقی، نہ کوئی راستہ ہےتیری یادوں کے سمندر میں غرق ہو گیا میں
تیرے نام کی مستی، میرے دل کا قرار ہےتیرے در کا گداگر، میرا یہ کاروبار ہےعشق ہے تیرا، ایمان ہے میراتجھ سے ہی زندگی، تجھ سے ہی بہار ہے
ہاں، تیرے در کی پکار ہے
میرا دل بے قرار ہے
میں نے ڈھونڈا جہاں میں، تو کہاں کہاں نہ ملامیری ذات کے آئینے میں، مجھے تو ہی نظر آیایہ پردے اٹھ گئے جب سے، حقیقت کھل گئی ہےتیرے سوا اس جہاں میں، کوئی بھی تو نہ بھایا
کبھی شمس، کبھی رومی، کبھی منصور بن کےآیا ہوں میں تیری محفل میں، تیرا ہی رنگ اوڑھ کےیہ دنیا ایک خواب ہے، تو ہی تعبیر ہے میریمیں تو مٹ رہا ہوں، تیرے عشق میں جل کے
تیرے نام کی مستی، میرے دل کا قرار ہےتیرے در کا گداگر، میرا یہ کاروبار ہےعشق ہے تیرا، ایمان ہے میراتجھ سے ہی زندگی، تجھ سے ہی بہار ہے
مستی! بے خودی! تیرے در کی حاضری!میری روح کی پیاس، تیری ذات کی آگہی!میں نہیں، میں نہیں، صرف تُو ہی تُو ہےمیری سانسوں میں، میری دھڑکنوں میں تُو ہی تُو ہے!حق! حق! حق!
تُو ہی تُو، صرف تُوتُو ہی تُو، میرا تُوتُو ہی تُو، سب کچھ تُوتُو ہی تُو... تُو ہی تُو...
تیرے در کا گداگر
استاد فیضان قادری
Preview