ذاتِ ازل اور فنا
استاد فرید الدین قوال
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے سروں اور طبلے کی پیچیدہ تالوں سے مزین ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جوشیلے کال اینڈ رسپانس اور جذباتی اتار چڑھاؤ کے ساتھ وجدان کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔
Lyrics
یا رب، دل کی لگی کو تو جانتا ہےہر سانس میں تیرا ہی نام مانتا ہےمیں ہوں خاکِ راہ، تو آفتابِ عالممیری تڑپ کو تیری ہی ذات جانتا ہے
کبھی خود سے دور، کبھی خود میں گمتیرے عشق میں، میں ہوا ہوں کلزمنہ کوئی ٹھکانہ، نہ کوئی سراغتیری جستجو میں جلے ہر اک دم
تُو ہی اول، تُو ہی آخر، تُو ہی ہے پکارتیرے بن سونا ہے سارا، یہ دربارمجھ کو مٹا دے، خود میں بسا لےتیری محبت کا، ہے سب سے پیار
تری ذات ہے، میرا ایمان
میں تو بس ہوں، ایک بے نام
تری ذات ہے، میرا ایمان
تیرے در پہ، میرا ہے مقام
خودی کے بتوں کو، توڑ کے آیامیں اپنے آپ سے، چھوٹ کے آیانہ مسجد دیکھی، نہ دیکھی مندرتیری گلی کا، میں رخ موڑ کے آیا
کبھی آہ بن کے، کبھی اشک بن کےمیں تیرے ہی رنگ میں، ڈھل گیا ہوںنہ جانے کیسا، یہ جادو کیا ہےمیں اپنی ہستی سے، نکل گیا ہوں
تُو ہی اول، تُو ہی آخر، تُو ہی ہے پکارتیرے بن سونا ہے سارا، یہ دربارمجھ کو مٹا دے، خود میں بسا لےتیری محبت کا، ہے سب سے پیار
یہ دنیا فانی، یہ قصے پرانےتیرے عشق کے، ہیں سب ٹھکانےجو تیرے ہوئے، وہ کہاں رہےوہ تو بن گئے، خود ہی زمانے
مٹ گیا میں، تو تُو ہی تو ہےخالی دل میں، تُو ہی تو ہےہر ایک ذرے میں، جلوہ تیرامیری رگ رگ میں، تُو ہی تو ہے
وجدان میں ڈوبا، طوفان میں ڈوبامیں تیرے ہی نور کے، جہان میں ڈوبانہ کوئی بندھن، نہ کوئی دوریمیں تیری ہی ذات کے، نشان میں ڈوبا
تُو ہی تو ہے
ہاں تُو ہی تو ہے
تُو ہی تو ہے
میری روح میں تُو ہی تو ہے
تُو ہی تو ہے...سب کچھ تُو ہی ہے...بس تُو ہی ہے...تُو ہی تو ہے...
ذاتِ ازل اور فنا
استاد فرید الدین قوال
Preview